حج : ایک عشقیہ عبادت
✍️ : عادل بلال میمن
اللہ تعالیٰ کی دو عظیم شانیں ہیں: ایک، اس کی حاکمانہ اور شاہانہ شان کہ وہ "مالکِ نفع و ضرر"، "ذوالجلال والجبروت"، "احکم الحاکمین" اور "شہنشاہِ کل" ہے؛ اور دوسری اس کی جمالیاتی شان کہ وہ ہر اس صفتِ کمال سے بدرجہ اتم متصف ہے، جو محبت کا باعث بنتی ہے۔ پہلی شان بندگی، عاجزی اور نیازمندی کی متقاضی ہے، جبکہ دوسری شان محبت، وارفتگی اور والہانہ تعلق کی۔
اسلام کی عبادات ان دونوں پہلوؤں کی نمائندہ ہیں، نماز اور زکوٰۃ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کے سامنے بندے کی عاجزانہ حاضری کا اظہار ہیں، جبکہ روزہ اور اعتکاف، عشق و محبت کے سفر کی ابتدائی منزلیں ہیں۔ لیکن جب بات عشقِ حقیقی کے کامل مظہر کی آتی ہے تو وہ صرف اور صرف "حج" ہے—ایک ایسی عبادت جو بندے اور رب کے تعلقِ محبت کو زندہ حقیقت میں ڈھال دیتی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہے کہ *"کبھی کبھی بندے کے دل میں رب کی طرف شوق کا طوفان اٹھتا ہے، محبت جوش مارتی ہے، اور اس شوق کی تسکین کا واحد ذریعہ اسے حج ہی نظر آتا ہے۔"*
غالباً امام غزالی رحمہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ *"اگر کسی کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا اشتیاق ہو، تو وہ ہر اُس شے کا مشتاق ہو جاتا ہے جس کی نسبت اللہ کی طرف ہو۔ کعبہ کی نسبت اللہ کی طرف ہے، اس لیے مؤمن کا دل خودبخود اس کی طرف کھنچتا ہے۔"*
یہی وہ جذبہ ہے جو حاجی کو احرام باندھنے پر آمادہ کرتا ہے—سلا ہوا لباس چھوڑ کر کفن نما لباس زیب تن کر لینا، سر برہنہ رکھنا، زیب و زینت ترک کر دینا، خوشبو سے اجتناب کرنا، اور پھر لبیک لبیک کی صدا کے ساتھ عشق کے قافلے میں شامل ہو جانا—یہ سب عشقِ حقیقی کی علامتیں ہیں۔ *گویا کہ کس حکم کی کیا علت ہے اس کا تو پتا نہیں لیکن محبوب کا حکم ہے تو بس اسے کرنا ہے*
بیت اللہ کا طواف، حجرِ اسود کا بوسہ، صفا و مروہ کے درمیان دیوانہ وار دوڑ، عرفات کے میدان میں اشک بار دعائیں، مزدلفہ اور منیٰ کی بے سروسامانی، شیطان کو کنکریاں مارنا، اور قربانی پیش کرنا—یہ سب اعمال کسی سادہ رسمی عبادت کے نہیں، بلکہ ایک والہانہ محبت کی تفسیر ہیں۔ ایک عرب شاعر انداز میں یہ کیفیت یوں بیان ہوئی :
أَمُرُّ عَلَى الدِّيَارِ دِيَارِ لَيْلَى * أُقَبِّلُ ذَا الْجِدَارَ وَ ذَا الْجِدَارَا
وَمَا حُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِي * وَلَكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِّيَارَا
حج تو محبوبِ حقیقی کے کوچے کا طواف ہے—اس در و دیوار سے لپٹنا، آہ و زاری کرنا، گویا دل کے اندر بسا عشق پوری قوت سے جلوہ گر ہو گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ مبرور کے بارے میں فرمایا: *مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ* (جس نے حج کیا اور فحش باتوں سے بچا، گناہوں سے پاک ہو کر لوٹا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہوـ) ایک اور حدیث میں فرمایا: *الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة* (حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، حج و عمرہ غربت اور گناہوں کو یوں مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو صاف کر دیتی ہے۔
الغرض، حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ایک عاشق کا محبوب کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔ لباسِ احرام دراصل کفن نما ہے جو ملاقات کے اشتیاق کو بتلاتا ہے ، طواف ایک جنون ہے، عرفات کی حاضری ایک فریاد ہے، اور منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنا نفس کی بندشوں کو توڑ ڈالنے کی علامت ہے۔
اگر بندہ اخلاص، عاجزی، محبت اور وارفتگی کے ساتھ ان تمام مناسک کو ادا کرے، تو امید ہے کہ وہ اللہ کی نگاہِ کرم سے بخشا جائے پھر تو اس کے لیے جنت کا وعدہ یقینی ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ہی مخلصانہ حج نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔