*ناگپور کے فسادات، ذمہ دار کون؟ چھاوا فلم یا اورنگزیب عالمگیر؟*
*✍️ عادل بلال میمن*
ہندوستان، جہاں تاریخ کے سنہرے اوراق پر عظمت کے بے شمار ابواب رقم ہیں، وہیں آج کی سیاست نے اس تاریخ کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس مہم کو ایک نیا ہتھیار دے دیا گیا ہے—فلمیں!
یہ فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ ایک خاص بیانیے کو ذہنوں میں بٹھانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کو ولن بنا کر پیش کرنا، انہیں دہشت گرد اور غدار کے طور پر دکھانا، یہ سب اسی سازش کا حصہ ہے۔ لیکن یہ صرف فلموں کی اسکرین تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس زہر کو سماج میں اتار دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ آئے دن ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں نکل رہا ہے۔
حالیہ دنوں ریلیز ہونے والی *فلم چھاوا* اس تعصب کا ایک اور شاہکار ہے۔ اس فلم میں ایک طرف *شیواجی کے بیٹے سنبھاجی* کو ایک مسیحا، ایک نجات دہندہ، ایک دیوتا کے روپ میں پیش کیا گیا ہے، تو دوسری طرف *اورنگزیب عالمگیر* کو ایک وحشی، ظالم، اور انتہا پسند بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ تاریخی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
اورنگزیب عالمگیر، مغلیہ سلطنت کا وہ روشن چراغ تھا جس نے انصاف، دیانت داری، اور ریاضت کی مثالیں قائم کیں۔ وہ ایک ایسے حکمران تھے جو قرآنی آیات کی کتابت کر کے، ٹوپیاں سی کر اپنی روزی کماتے تھے، جنہوں نے عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ظالمانہ ٹیکسوں کو ختم کر دیا، جنہوں نے مسلمانوں سے زکوٰۃ اور غیر مسلموں سے جزیہ لے کر ایک متوازن نظام حکومت قائم کیا۔اور جزیہ بھی اس لئے کہ وہ مسلمانوں سے زکوۃ وصول کیا کرتے تھے اور غیر مسلموں سے زکوۃ لینا گویاکہ انہیں ایک اسلامی حکم پر مجبور کرنا لازم آتا اس لئے ان سے جزیہ لیا اور ان کو مسلمانوں کی طرح ہی حقوق بھی دئے اور یہ جزیہ بھی معمولی مقدار تھی جبکہ اس کے بر خلاف اس وقت کے راجے مہاراجے ٹیکس اور محصول کے نام پر اچھی خاصی رقم اور غلہ وصول کیا کرتے تھے خود شیواجی بھی چوتھ یعنی پیداوار کا چوتھائی حصہ وصول کیا کرتے تھے تو صرف جزیہ پر ہی سوال کیوں ؟
لیکن چھاوا جیسی فلمیں ان حقائق کو مسخ کرتی ہیں اور عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے یکطرفہ کہانیاں پیش کرتی ہیں۔ اس فلم کی ریلیز کے فوراً بعد ناگپور اور مہاراشٹر کے دیگر شہروں میں جو فسادات ہوئے، اور اورنگزیب عالمگیر کی قبر پر حملے کی واردات بھی سامنے آئی وہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے—کیا یہ سب خودبخود ہو گیا؟ کیا لوگوں نے اچانک تاریخ میں دلچسپی لے لی؟ نہیں! انہیں ایک خاص بیانیے کے تحت مشتعل کیا گیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا شیواجی اور سنبھاجی واقعی معصوم تھے؟
فلم چھاوا میں جس سنبھاجی کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے، وہ اور ان کے والد شیواجی درحقیقت ایک گوریلا جنگجو تھے، جو دیہاتوں پر حملے کرتے، گاؤں کے گاؤں جلا دیتے، قلعوں کو لوٹتے اور بے گناہوں کو تہہ تیغ کرتے تھے۔ ان کے حملوں میں ہندو اور مسلمان کی کوئی تفریق نہ تھی۔ ان کے حملوں سے ہندو بھی اتنے ہی متاثر ہوتے تھے جتنے مسلمان، سورت کی منڈیاں آج بھی اس کی گواہ ہیں
شیواجی اور سنبھاجی کی بڑی سے بڑی جنگ کسی "دھرم" کے لیے نہیں تھی، بلکہ اقتدار کے لیے تھی۔ اقتدار کے حصول کے لیے انہوں نے مراٹھا حکمرانوں کو بھی دھوکے سے قتل کیا، اپنے دشمنوں کے علاقوں پر زبردستی قبضہ کیا، اور اپنی سلطنت کے دائرے کو بڑھانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہے، اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اورنگزیب کی حکومت تو افغانستان ، پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش ، لداخ اور تبت جتنی وسیع و عریض تھی تو پھر صرف اور صرف مہاراشٹرا میں ہی اور وہ بھی شیواجی اور سنبھاجی سے ہی کیوں جنگ رہی ؟ کیا سارے ہندو مہاراشٹرا میں ہی تھے ؟ نہیں ہرگز نہیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی مذہبی جنگیں نہیں تھی بلکہ شیواجی اور ان کے بعد سنبھاجی اقتدار کے حصول کے لئے یہ جنگیں کیا کرتے تھے اگر یہ سب مذہب کی بنیاد پر تھا تو شیواجی کے داماد اور بھتیجے اورنگزیب کے ساتھ کیوں تھے یہ وہ بنیادی سوالات ہے جن کا جواب فرقہ پرست عناصر کے بس کی بات نہیں
اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں جھوٹے بیانیے تراشنے والوں سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ اگر وہ واقعی ظالم اور ہندو مخالف تھے تو ان کے دربار میں مرہٹہ وزراء اور کمانڈر کیوں موجود تھے؟ اگر وہ واقعی مندر شکن تھے تو انہوں نے کئی مندروں کو جاگیریں اور زمینیں کیوں دی ؟ اگر وہ محض ایک مذہبی جنگجو تھے تو انہوں نے دیگر مسلم سلطنتوں جیسے بیجاپور اور گولکنڈہ پر حملہ کیوں کیا؟
یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ چھاوا جیسی فلموں کے پاس ہے، نہ ہی ان کے تخلیق کاروں کے پاس، اور نہ ہی ان سیاست دانوں کے پاس جو ان فلموں کے اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کیوں اورنگزیب نے بہت سے مندر توڑے لیکن آج کا میڈیا ان مندروں کے توڑے جانے کے پیچھے کی حکمت کیوں نہیں بتاتا ؟ ان میں سے بہت سے مندر تو وہ تھے جو حکومت کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے تو بہت سے مندروں میں خود ہندو عورتوں کی عصمت لوٹی جاتی تھی اس کی میں ایک مثال پیش کرتا ہوں جیسا کہ *بنارس کا وشواناتھ مندر* ، ڈاکٹر بی ایم پانڈے نے اس مندر کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب اورنگزیب بنگال جاتے ہوئے بنارس کے قریب سے گزرے تو ان کی فوج میں شامل ہندو راجاؤ اور کمانڈروں نے وہاں ایک دن قیام کی درخواست کی تاکہ ان کی رانیاں گنگا اشنان کر سکے اور وشواناتھ دیوتا کی پوجا کریں اورنگزیب اس پر راضی ہو گئے اور انہوں نے حفاظت کا پورا انتظام کیا رانیاں اشنان کر کے وشوناتھ مندر کے لیے روانہ ہوئی لیکن ان میں سے کچھ رانیاں غائب تھی کافی تلاش کیا گیا مگر کچھ پتا نہ چل سکا بالاخر تحقیق کاروں نے دیوار میں موجود گنیش کی مورتی کو ہلایا تو مورتی کے پیچھے کچھ سیڑھیاں نظر آئی اور یہ سڑھیاں ایک تہ خانے تک جاتی تھی وہاں انہوں نے دیکھا کہ ان بعض رانیوں کی عصمت ریزی کی جا چکی تھی اور وہ زار و قطار رو رہی تھی چنانچہ فوج میں موجود راجپوت کمانڈروں نے اورنگزیب سے اس مندر کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا لہذا اورنگزیب نے حکم دیا کہ اس مورتی کو بڑے احترام سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے اور اس مذہبی جگہ کو جو کہ ناپاک کی جا چکی تھی منہدم کر دیا جائے اور اس مہنت کو گرفتار کر دیا جائے , اور یہ بات صرف مندروں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اورنگزیب نے ان مسجدوں کو بھی منہدم کیا جو حکومت کے خلاف سازشیں رچنے اور حکومت کا خزانہ چھپانے کا مرکز بنی ہوئی تھی ، آج کا میڈیا ان حقائق کو کیوں چھپاتا ہے ؟
چھاوا فلم کی ریلیز کے بعد ناگپور میں جو فسادات ہوئے، جو لوگ مارے گئے، جو دکانیں جلا دی گئیں، جو مسجدوں پر حملے کیے گئے، ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ سب اورنگزیب عالمگیر کی قبر سے نکل کر ہوا؟ یا پھر ان نفرت انگیز فلموں کے ذریعے عوام کے جذبات کو بھڑکایا گیا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اورنگزیب کی قبر پر حملہ کرنے والے ان فلموں کے زیر اثر پلنے والے وہی لوگ ہیں جنہیں حقائق نہیں، صرف نفرت سکھائی گئی ہے۔ اگر یہ فلمیں محض تاریخی ہوتی، اگر یہ واقعات کو صحیح تناظر میں پیش کرتیں، تو شاید آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ لیکن افسوس، یہ فلمیں کسی تاریخی تجزیے کے لیے نہیں، بلکہ ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت بنائی جاتی ہیں۔
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم، جو منی پور جیسے انسانی حقوق کے بحران پر خاموش رہتے ہیں، وہی وزیر اعظم چھاوا جیسی فلموں کے اشتہار دیتے نظر آتے ہیں۔ کشمیر فائلز جیسی فلموں کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا ایک وزیر اعظم کا یہ کام ہے کہ وہ ایک خاص فرقے کے خلاف زہر اگلنے والی فلموں کو فروغ دے؟
اور پھر ناگپور کے فسادات کے بعد مہاراشٹرا کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کا بیان آتا ہے کہ یہ فسادات *چھاوا فلم* کی وجہ سے ہو رہے ہیں ، دیویندر فڈنویس جی سے سوال ہے کہ اس چھاوا فلم کا اشتہار اور اس کی حمایت تو *وزیر اعظم نریندر مودی جی* نے کی تھی تو اب ان فسادات کا ذمہ دار کس کو ٹھہراؤ گے ؟
ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی پارٹی کا دوغلہ رویہ ہے اور جس کا مقصد صرف اور صرف دونوں جانب کے لوگوں کو اشتعال دلانا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اپنی سیاست کو اور جمایا جا سکے
یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جس پر آج ہر ہندوستانی کو غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے آنکھیں بند کر لیں، اگر آج ہم نے اس نفرت انگیز بیانیے کو روکنے کی کوشش نہ کی، تو کل ہمارا ملک ایسے فسادات کی آگ میں جھلس جائے گا جس سے نکلنا ناممکن ہوگا۔
*آخر میں…*
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ چھاوا جیسی فلمیں محض تفریح کے لیے نہیں، بلکہ نفرت پھیلانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ فلمیں اورنگزیب عالمگیر جیسے تاریخی شخصیات کی کردار کشی کر کے عوام میں زہر گھولتی ہیں اور فسادات کو ہوا دیتی ہیں۔ اگر اس ملک کو واقعی ترقی کرنی ہے، اگر ہمیں واقعی ایک بہتر ہندوستان چاہیے، تو ہمیں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی ان فلموں اور ان کے پیچھے چھپے نفرت انگیز ذہنوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
ورنہ، وہ دن دور نہیں جب ناگپور جیسی آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور تب شاید بجھانے والا کوئی نہ ہو! *وإلى الله المشتكى*