" _وقف پر حملہ: کیا مسلمان خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟_ "
✍️عادل بلال میمن
2 اپریل 2025 کی رات، جب چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، بھارت کے مسلمانوں کے دلوں میں بے چینی اور اضطراب کی ایک لہر دوڑ رہی تھی۔ وقف ترمیمی بل 2024، جو لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے اور راجیہ سبھا کی منظوری کا منتظر ہے، ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو نہ صرف مسلم برادری کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ ان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکا ہے۔ حکومت اس بل کو وقف املاک کے نظم و نسق میں شفافیت لانے کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، لیکن مسلم تنظیمیں اور دانشورانِ قوم اسے اپنی صدیوں پرانی میراث پر ڈاکہ سمجھ رہے ہیں اور واقعتاً یہ ڈاکہ ہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا وہ خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہے یا اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کریں ؟
وقف، اسلام میں ایک مقدس عمل ہے، جس کے ذریعے مسلمان اپنی جائیداد اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دیتے ہیں، تاکہ وہ ہمیشہ انسانیت کی خدمت میں رہے۔ لیکن جب اس بل کی دفعات سامنے آئیں—جن میں *غیر مسلم اراکین کی وقف بورڈ میں شمولیت* ، *ضلع کلکٹر کو جائیدادوں کی ملکیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار* ، اور *حکومتی مداخلت کی کھلی اجازت اور اسی طرح کی بہت سی باتیں* شامل ہے—تو یہ مسلمانوں کے لیے کسی زلزلے سے کم نہ تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اسے "مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ" قرار دیا، جبکہ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ "یہ بل شریعت کے خلاف ہے اور ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔"
پٹنہ میں ہزاروں مسلمانوں کا احتجاج، دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے، اور ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ معاملہ قانون کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ مسلمانوں کو اپنے سیاسی قائد اسد الدین اویسی صاحب کے ان الفاظ کو ہمیشہ مستحضر رکھنا چاہیے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ "یہ وقف کی جائیدادیں اللہ کی ملکیت ہے اگر آج ہم اس کی حفاظت نہ کر سکے تو کل حشر کے میدان میں اللہ کے سامنے کیا جواب دینگے " واقعتاً اویسی صاحب نے بہت بڑی بات کہی ہے لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قائدین کی قیادت میں ہونے والے احتجاجات میں ان کی خوب معاونت کریں ورنہ کل روز محشر ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہونگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وقف املاک میں بدعنوانیاں (کرپشن اور گھوٹالے) ہو رہی ہیں اور ان کے بہتر نظم و نسق کے لیے یہ بل ضروری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس ان بدعنوانیوں کے ثبوت ہیں؟ اگر واقعی کوئی بے اصولی ہو رہی تھیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اور اگر ایک دو جگہ ایسا ہوا بھی تو اس کی وجہ سے پوری مسلم اقلیت کو اس بل کے ذریعہ تکلیف پہونچانا کہاں تک درست ہے ؟ حکومت نے بس ایک الزام لگا کر وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ *یہ الزام لگانا کہ وقف املاک میں گھوٹالے ہو رہے ہیں، محض ایک بہانہ ہے* ، کیونکہ کوئی معتبر تحقیقاتی رپورٹ یا عدالتی فیصلہ ایسا نہیں آیا جو ان الزامات کو ثابت کر سکے۔ حتی کہ بابری مسجد کے معاملے میں بھی کورٹ نے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کیا ورنہ خود سپریم کورٹ نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی ، بابری مسجد کے بعد حکومت کی نظر وقف املاک پر ہے؛ بلکہ سچائی یہ ہے کہ حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے؛ تاکہ انہیں سرکاری کنٹرول میں لا کر کارپوریٹ اداروں اور مافیاز کے حوالے کیا جا سکے۔ اجین میں ایک 100 سال پرانی مسجد کو مسمار کرنا اور دہلی میں 123 وقف جائیدادوں پر تنازعہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت کی نیت کچھ اور ہے۔ اگر واقعی شفافیت مقصود ہوتی، تو کیا حکومت مندروں اور دیگر مذہبی جائیدادوں کے انتظامات پر بھی ایسا ہی بل لاتی؟
اس نازک وقت میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف احتجاج تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی اپنائیں۔
کچھ اہم ذمہ داریاں یہ ہیں:
1. اتحاد : سب سے بڑی طاقت اتحاد میں ہے۔ آپسی فرقہ واریت نے اسلام کی عمارت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اب ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور تنظیمیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آ جائے؛ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر غیر مسلموں کو بھی یہ پیغام ہے کہ وہ اس مسئلے میں اپنے مسلم بھائیوں کا ساتھ دیں؛ اس لئے کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں؛ بلکہ بھارت کی سیکولر شناخت کا بھی ہے اور اور دستورِ ہند پر حملہ ہے، اگر آج مسلمان نشانے پر ہے تو کل آپ بھی ہو سکتے ہیں۔
2. قانونی جنگ: اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائیگا۔ قائد جمعیت مولانا مدنی کا بیان اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ دستورِ ہند کا آرٹیکل 26 تمام مذاہب کو اپنے مذہبی امور خود چلانے کا حق دیتا ہے۔ اگر اس بل کو عدالت میں لے جایا جائے، تو حکومت کو اپنے الزامات ثابت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
3. عوامی بیداری: عام مسلمانوں کو اس بل کے نتائج سے آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا، جمعہ کے بیانات و خطبات، اور کمیونٹی اجلاسوں کے ذریعے لوگوں کو شعور دینا ہوگا کہ یہ صرف جائیدادوں کا نہیں بلکہ ان کے مذہبی وقار اور ورثے کا معاملہ ہے۔
4. سیاسی دباؤ: حکومت کی اتحادی جماعتوں پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے کہ وہ اس بل کی مخالفت کریں۔ اگر یہ جماعتیں واقعی سیکولرزم کی حامی ہیں، تو انہیں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا ورنہ ؟؟؟؟
یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے عوام کے حقوق اور آئین ہند پر حملہ کیا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔ یاد رکھیں: کسان آندولن کو ، جب حکومت نے زرعی قوانین نافذ کیے تھے؛ لیکن کسانوں نے یکجہتی اور ثابت قدمی سے ایک سال تک جدوجہد کی، دھرنے دیے، موسم کی شدت سہی، اور بالآخر حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ یہ قوانین واپس لے۔ یہی اتحاد، یہی صبر، اور یہی استقامت آج مسلمانوں کو بھی دکھانی ہوگی۔
اسی طرح، 2019-20 میں شاہین باغ کا احتجاج بھی ایک مثال ہے کہ جب خواتین، بزرگ، اور نوجوان متحد ہو کر باہر نکلے تو دنیا نے ان کی آواز سنی۔ وہ احتجاج نہ صرف سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایک مضبوط موقف تھا؛ بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ جب کوئی قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو اسے دبایا نہیں جا سکتا۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ اگر آج مسلمان اپنی آواز بلند نہیں کریں گے تو کل ان کے پاس نہ مساجد بچیں گی، نہ قبرستان، نہ وہ ادارے جو ان کی شناخت کا حصہ ہیں۔ یہ بل صرف جائیدادوں کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے وقار اور مذہبی آزادی کا امتحان ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں جیسا کہ مولانا مدنی نے کہا:
"ہم ایک زندہ قوم ہیں، جو ظلم کے آگے کبھی نہیں جھکی اور نہ جھکے گی۔"
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوئی ہے، وہ کامیاب ہوئی ہے۔ کیا ہم اللہ کی ملکیت کی حفاظت کے لئے اور اپنے اسلاف کی امانت کو بچانے کے لیے تیار ہیں؟ وقت ہمارے فیصلے کا منتظر ہے اور اب خاموشی اختیار کرنا ایک جرم ہے!